اردو ناول کے رنگا رنگ موضوعات

ڈاکٹر شائستہ حمید

ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی انوکھا، نرالا، نیا ہے۔ اطالوی زبان کا یہ لفظ ایسے قصوں کے لیے انگریزی زبان میں استعمال ہونے لگا، جس میں زندگی کے انوکھے واقعات یا چونکا دینے والے واقعات بیان ہوتے تھے۔ داستان سے یہ صنف اس لیے مختلف قرار پائی کہ داستان کی بنیاد تخیل اور مافوق الفطرت قصوں پر رکھی جاتی ہے جب کہ ناول میں حقیقی زندگی کے واقعات کی عکاسی ہوتی ہے۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اردو میں اس صنف کا آغاز ہوا اور داستانوں کی جگہ اس صنف ادب نے لے لی۔ اردو ادب میں پہلی مرتبہ طلسماتی فضا سے نکل کر قصّہ حقائق کی دنیا میں داخل ہوا اور مصنفین نے اپنے نقطہ نظر اور فلسفہ حیات کو کہانی کے روپ میں بیان کرنا شروع کیا۔ ڈاکٹر ابواللیث صدیقی ناول کے بارے میں لکھتے ہیں:
''ناول کا لفظ ہمارے یہاں مغربی ادب بالخصوص انگریزی کے اثر سے آیا اس کا اطلاق نثر میں ایسے قصوں پر ہوتا ہے جن میں ایک واضح اور منظم پلاٹ ہو اور جس میں خیالی کہانیوں کی بجائے زندگی کے مسائل، معاملات اور واقعات بیان کئے جائیںجو نہ تو قدیم داستانوں کی طرح اتنا طویل ہو کہ ایک داستان لکھنے کے لیے کئی کئی مصنفین کی ضرورت ہو اور نہ اتنا مختصر کہ چائے کی ایک پیالی پر لکھا اور پڑھا جا سکے۔''۱ؔ؎
ناول میں جہاں موضوع پلاٹ، کرداراور مناظر اہم ہوتے ہیں وہاں ناول کا اسلوب بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسلوب میں ایک اور عنصر اس کا بیانیہ ہوتا ہے۔ والٹر ایلن Walter Allen اس ضمن میں The English Novel میں لکھتے ہیں:
''We know too what the Novelist sets out to do when he writes a novel. Like any other artist the novelist is maker. He is making an imitation of the life of man on earth. He is making, it might be said, a working model of life, as he sees and feels it, his conclusions about it being expressed in the Characters he invents, the situations in Which he place and in the very Words he chases for those purposes. The word conclusion is inescapable, though it does not follow that the conclusions are Concisely arrived at. They may indeed be at odds with the novelist avoid in tentions. Novelist has given many reasons for writing novels: Richardson believed he did So to in culcate right Conduct. Fielding to reform the manners of the age. Dickens to expose social evils. Trollop to make money by providing acceptable. entertainment." ؎ 2
ناول زندگی کا عکاس بھی ہے ترجمان بھی ہے اور ایک اچھا لکھا ہوا ناول زندگی کے کسی خاص پہلو، مقصد کی وضاحت بھی کرتا ہے اور اپنے دور کی فضا کو بھی بیان کرتا ہے درحقیقت کسی بھی دور کا ناول اپنے دور کی سچی معاشرتی تصویر پیش کرتا ہے۔
ناول کے بارے میں مغربی نقاد بیکر (Baker) کی رائے مکمل ترین ہے۔ اس کے خیال میں ''ناول نثری قصے کے ذریعے انسانی زندگی کی ترجمانی کرتا ہے وہ بجائے ایک شاعرانہ اور جذباتی نظریہ حیات کے ایک فلسفیانہ سائنیٹفک یا کم ازکم ایک ذہنی تنقید حیات پیش کرتا ہے۔ قصے کی کوئی کتاب اس وقت تک ناول نہ کہلائے گی جب تک وہ نثر میں نہ ہو۔ حقیقی زندگی کی ہو بہو تصویر اس کے مانند کوئی چیز نہ ہو اور ایک خاص ذہنی رجحان اورنقطہ نظر کے زیر اثر اس میں ایک طرح کی یک رنگی اور ربط موجود ہو۔''۳؎
ناول سے اصلاح کا کام بھی لیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں کوئی بگاڑ ہو تو وہ ٹھیک کی جا سکے۔ لوگوں میں احساس شعور کو زندہ کیا جا سکے۔ ناول کو زندگی کے لیے ایک آئینہ کی سی حیثیت حاصل ہے۔ عبدالحلیم شرر مضامین شرر میں لکھتے ہیں۔
''یورپ میں جو ہر قسم کی اخلاقی، مذہبی نیز پولیٹیکل اصلاح کا ذریعہ ناول قرار دیے گئے ہیں تو یہ کوئی بے عقلی کا کام نہیں کیا گیا۔ نہ یورپ ایسا بے عقل اور عاقبت نااندیش ہے کہ کسی فاش غلطی میں مبتلا ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ ناول سے زیادہ مؤثر پیرایہ کسی مسئلہ یا کسی تہذیب کے ذہن نشین کرنے اور لوگوں کو پابند بنا دینے کا ہو سکتا ہی نہیں… جو معلم اخلاق یہ چاہتا ہو کہ لوگ اس کے اصول اخلاق پر کاربند ہوں تو اسے سوا اس کے کہ ناولوں کے اسلوب اختیار کرے اور کسی طرح کامیابی نہیں ہو سکتی۔''۴؎
نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کے ناول ''مراۃ العروس''،'' بنات النعش''،'' توبتہ النصوح''، ''ابن الوقت'' ،''رویائے صادقہ ''،''فسانہ مبتلا''،'' ایامی'' سب ہی تعلیم نسواں، سماجی و تہذیبی مسائل پر بحث کرتے ہیں۔ جس سے انہوں نے معاشرے کی اصلاح کا بھرپور کام لیا ہے ڈاکٹر مظفر عباس نذیر احمد کے ناولوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
''مولوی نذیر احمد کی ناول نگاری کا آغاز۱۸۶۹ء میں مراۃ العروس کی تصنیف سے ہوا۔ ان کے فن کی بنیاد مقصدیت پر قائم ہے جس کی مختلف سطحیں فرد سے معاشرے کی طرف سفر کرتی ہیں۔ ان کا مطمح نظر قومی اخلاقیات کی اصلاح ہے اور اس طرح ان کے ناولوں کا رشتہ سرسید کی اصلاحی تحریک سے جوڑا جا سکتا ہے۔''۵؎
رتن ناتھ سرشار ؔنے اسی عہد میں ''فسانۂ آزاد'' اور ''سیرکہسار'' لکھ کر شہرت حاصل کی اور ڈاکٹر میمونہ انصاری کے خیال میں۔
''اردو زبان کا پہلا ناول نگار سرشار ہے۔ جس نے داستان کے بعد تفریحی مقصد لے کر ناول لکھے اس نے جس طرح داستان سے متاثر ہو کر فسانۂ آزاد لکھا وہ اپنی مثال آپ ہے۔''۶؎
سرشارؔ نے اپنے ناولوں میں لکھنوی تہذیب و معاشرت کی حقیقت پسندانہ عکاسی بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ناول کی فنی خصوصیات کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کیا۔
عبدالحلیم شررؔ کے تاریخی ناولوں نے ادب میں ایک نیا موضوع متعارف کروایا کیونکہ شررؔ نے ہی تاریخی ناولوں کی بنا ڈالی ان کے ناولوں میں ''منصور موہنا''، ''ایام عرب''، ''فردوس بریں''، ''ملک العزیز ورجینا'' نمایاں ناول ہیں اور ''فردوس بریں'' ایک ایسی باطنی تحریک کا افسانوی روپ ہے جس میں جنت کے تصور کو سیاسی مفادات کے حصول کا وسیلہ بنایا گیا تھا۔ شررؔ کی ناول نگاری مقصدی تھی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا شررؔ کے بارے میں لکھتے ہیں۔
''اردو ناول کا آغاز نذیر احمد اور سرشار کا مرہون منت ہے مگر اس کی مقبولیت میں شرر ؔکی وجہ سے کئی گنا اضافہ ہوا''۷؎
مرزا ہادی رسوا لکھنو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہمہ اقسام کے علوم میں دل چسپی لی، ناول نگاری میں انہوں نے ''ذات شریف''، ''شریف زادہ''، ''اختری بیگم'' اور شہرہ آفاق ناول ''امرائو جان ادا'' جیسے ناول لکھے اور اردوادب کا دامن وسیع کیا۔ ان ناولوں میں لکھنوی ماحول، تہذیب، معاشرت اور طوائف کی زندگی کی عکاسی بھرپور طریقے سے کی گئی ہے۔
کرشن چندر نے اپنے ناول ''شکست'' میں اقتصادی بدحالی اور طبقاتی آویزش کو کشمیر کے پس منظر سے ابھارا ہے۔ ناول کے دو اہم کردار شیام اور موہن سنگھ اونچے طبقے سے اور نسوانی کرداروں میں سے ونتی اور چندرا نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ناکام عشق اور المیہ انجام سے عورت کی مظلومیت آشکار کی گئی ہے۔ کرشن چندر کا ناول''جب کھیت جاگے'' کسانوں کی سیاسی کشمکش کا آئینہ دار ہے''طوفان کی کلیاں''، ''آسمان روشن ہے'' ''ایک عورت ہزار دیوانے'' جس میں سماج کے زخموں کی نمائش زیادہ ہے اور سب سے بڑھ کر ''ایک گدھے کی سرگذشت'' ہے جس میں طنز و مزاح غالب قوت بن گئی ہے۔ ان ناولوں میں کرشن چندر کی گل بار زبان ان کی کمزوری بن گئی، کرشن چندر نے اردو ادب کو چند مقبول ناول دیے۔
محمد علی طیب کے ''عبرت'' جعفروعباسیہ خضر خان، بہت مقبول ہوئے خاص کر''عبرت'' کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اردو ادب کے تمام نقادوں نے اس ناول کو خصوصی توجہ کا مستحق سمجھا ہے۔ علی عباس حسینی اس ناول کے بارے میں لکھتے ہیں۔
''غیر فطری عشق کی سب سے بہتر مثال عبرت کا ہیرو''جان'' ہے افریقی گورنر کا یہ نور نظر بالکل کہانیوں کے عاشق مزاج شہزادوں کا دل رکھتا ہے۔ جو ناول کی جان ہے۔''۸؎
راشد الخیری کے ناولوں کا سب سے بڑا مقصد تربیت رہا ہے اور اسلامی نظریات و اقدار کو اجاگر کرنا اور لوگوں کو اپنی روایات سے قریب تر کرنا اور تاریخ سے واقفیت کروانا ہے۔ ان کے ناولوں میں ''شاہین و دراج''، ''ماہ عجم''، ''آفتاب دمشق''،'' محبوبہ خداوند عروس کربلا''،'' اندلس کی شہزادی''، ''یاسمین درشہوار''، تنسیخ کمال شامل ہیں۔
اوپندر ناتھ اشکؔ کا ناول ''ستاروں کا کھیل''محبتوں کا گورکھ دھندا ہے۔ جس میں تقدیر اپنا غالب کردار ادا کرتی ہے۔ ہندی سے اردو میں منتقلی نے اس ناول کے بیاینہ کو مزید کمزور کر دیا ہے اور یہ زندگی کے اس لمس سے محروم نظر آتا ہے۔
پریم چند کی بنیادی شہرت ان کی افسانہ نگاری کی وجہ سے ہے لیکن اردو ناول کی تاریخ میں ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ ان کے ناول ''بازار حسن''، ''چوگان ہستی''،'' گوشہ عافیت''،'' پردہ حجاز''،'' نرملا غبن''،'' میدان عمل'' اور'' گئودان'' ان کے فنی سفر کے سنگ میل بھی ہے۔ ان کے ناولوں کا بنیادی موضوع دیہی زندگی کے مسائل اور معاشرتی و سماجی مسائل ہیں۔ ڈاکٹر مظفر عباس لکھتے ہیں:
''پریم چند کے ناولوں کے منظر عام پر آنے کے بعد فکری اعتبار سے ناولوں کی صنف پختگی کی طرف سے سفر شروع کر دیتی ہے۔ اس دور کے ناول عموماً فکشن کے مغربی فنی معیار کو چھوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ڈاکٹر حسن فاررقی جیسے کڑا معیار رکھنے والے نقاد بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پریم چند کے ناولوں کا فنی معیار بہت بلند ہے۔''۹؎
عصمت چغتائی کا ''ٹیڑھی لکیر'' ان کی اپنی زندگی کے پس منظر سے ابھرا۔ اس کا مرکزی کردار شمن ان کی ذاتی اور نفسیاتی زندگی کا آئینہ ہے۔ ضدی، معصومہ بھی ان کے ناول ہیں اور ان کا موضوع خواتین کے مسائل، نفسیات، متوسط طبقہ کے نوجوانوں کی جنسی گھٹن ہے۔ جس کو انہوں نے بہت خوبی سے عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔
عزیز احمد درحقیقت سیاسی و سماجی فکر اور جنسی حقیقت نگاری کا ناول نگار ہے ان کی وجۂ شہرت میں ''ایسی بلندی ایسی پستی''،'' شبنم''، ''گریز''، ''نمود''، ''مرمر'' اور'' خون'' شامل ہیں۔ انہوں نے افلاطونی محبت کا زوایہ بھی پیش کیا اور عصری، سماجی اور تہذیبی زندگی کو ناول میں سمونے کا عمدہ تجربہ بھی کیا۔ ان کو ناول کی تکنیک پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ان کا اسلوب غیر جذباتی لیکن بے موثر ہے۔ ان کے اثرات بالواسطہ طور پر قرۃ العین حیدر اور خدیجہ مستور کے ہاں بھی نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر احسن فاروقی اس ضمن میں لکھتے ہیں:
''۱۹۳۶ء سے ادب میں ہنگامے برپا ہونے لگے اور ادب کو بھی ہنگامہ بنایا جانے لگا… اس تمام ہنگامے میں تین ہستیاں قابل توجہ نظر آتی ہیں ایک کرشن چندر، دوسرے عزیز احمد اور تیسری عصمت چغتائی۔''۱۰؎
سجاد ظہیر نے ''لندن کی ایک رات'' سے شہرت پائی۔ ان کا بنیادی موضوع مشرق و مغرب کا ذہنی تصادم، نوجوانوں کا باغیانہ شعور، ان کی ذہنی و جذباتی کشمکش اور نظریاتی ٹکرائو ہے۔ جس کی انہوں نے بہت عمدہ عکاسی کی ہے۔
قیام پاکستان براعظم پاک و ہند کی تاریخ میں اہم ترین واقعہ تھا۔ یہ جہاں مسلمانوں کے محفوظ مستقبل کی نوید لایا وہاں ہندو مسلم فسادات نے ان خوشیوں میں اداسی پیدا کر دی۔۱۴اگست۱۹۴۷ء کے بعد واقعات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے ہر حساس ذہن کو متاثر کیا۔ خصوصاً ادیب اور شاعر اس سے بہت متاثر ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد نمایاں ہونے والے ناول نگاروں میں جو اہم نام ہیںان کی تفصیل ذیل میں ہے اور اس وقت کے جو موضوعات ان ناول نگاروں نے منتخب کیے اس پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔
احسن فاروقی کو بطور ناول نگار ''شام اودھ'' سے شہرت ملی جو امرائو جان ادا کے بعد لکھنوی تہذیب کا حقیقی مرقع ہے۔ صبح بنارس، شامِ اودھ کا ضمیمہ ہے۔ لیکن اس میں مستقبل کی چاپ اور نئی تہذیب کا غلبہ نمایاں ہے۔ ان کا ناول ''سنگم'' تاریخی اور سیاسی شعور کی آگہی کا ناول ہے۔ ان کے دیگر ناولوں میں ''رہ رسم آشنائی'' آبلہ دل کا، شامل ہے مگر جو شہرت،''سنگم'' اور ''شام اودھ'' کو اردو ادب میں حاصل ہوئی وہ اور کسی کو نہیں ہوئی۔قرۃ العین حیدر جدید ناول نگاری کی علم بردار ہیں ان کے ناول میرے بھی صنم خانے، سفینہ غم دل، آگ کا دریا، کار جہاں دراز ہے، آخر شب کے ہمسفر اور گردش رنگ چمن شامل ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے ناول کے وسیلے سے تاریخ کے باطن میں سفر کرنے کی سعی کی اور روحانی قدروں کی بازیافت کی ہے۔ ان کے ناول تینوں زمانوں پر محیط ہیں۔ اگرچہ ڈاکٹر احسن فاروقی نے ان پر کڑی تنقید بھی کی ہے مگر اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ انہوں نے اردو ناول کو وسعت آشنا کیا اور اسے اعتبار فن بخشا اور اردو ناول کو نئے آفاق سے روشناس کرایا ہے۔
فضل احمد کریم فضلی قحط بنگال کی ہولناک صورتحال اور تہذیبی معاشرتی سیاسی صورتحال کے عکاس ہیں۔ ان کا ناول ''خون جگر ہونے تک'' سماجی حقیقت کو غیر آرائشی انداز میں سامنے لاتا ہے۔ اس ناول کا پس منظر ۱۹۴۵ء کا بنگال ہے۔ فضلیؔ نے اس ناول کی جزئیات حقیقی زندگی سے تلاش کیں اور انہیں اس طرح باہم مرتب کیا کہ ایک مؤثر اور معنی آفریں ناول تخلیق ہوگیا۔
شوکت صدیقی کے ناول ''خدا کی بستی'' میں غربت اور ہوس زر کی آویزش کو سماجی جرائم اور اخلاق باختہ کرداروں سے نمایاں کیا گیا کیونکہ ان کا موضوع ہی ۱۹۴۷ء کے بعد کی کراچی کی معاشرتی زندگی کے آشوب کو سامنے لانا ۔
راجندر سنگھ بیدیؔ کا ناول ''ایک چادر میلی سی'' عورت کے مثبت اور منفی روپ کو پیش کرتا ہے۔ بیدیؔ نے انسان پر ماحول اور سماج کی مضبوط گرفت سے اس کی آزادی کا پرچم بلند کیا ہے۔ یہ ایک نمائندہ ناول بیدی کے فن کا نقش بن گیا۔ ڈاکٹر ممتاز احمد خان اس ضمن لکھتے ہیں:
''راجندر سنگھ بیدیؔ اپنے افسانوں اور ناول ''ایک چادر میلی سی'' میں بظاہر کھردرے اور ناہموار اسلوب بیان کے حامل نظر آتے ہیں۔ تاہم غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے کہ ایسا نہیں ہے یہ امر شاید بہتوں کے لیے حیرت کا باعث ہو کہ ان کا کھردرا پن خود حسن بن جاتا ہے۔ یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ایسا کیوں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیدی ایک ایک فقرے پر سخت محنت کرنے والے افسانہ نگار ناول نویس تھے۔''۱۱؎
خدیجہ مستور کے ناول ''آنگن'' اور ''زمین ''میں معاشرتی مسائل اور تاریخ کے دھارے کو باہم مدغم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خدیجہ کا بنیادی موضوع جاگیردارانہ نظام، سیاست کی تباہ کاریاں اور پاکستان میں مہاجرین کے حالات ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ حذیجہ مستور نے اپنے ناولوں کی ایک ایک سطر کو خون جگر سے تخلیق کیا ہے۔
حیات اللہ انصاری کا بنیادی موضوع ہجرت، آزادی کے بعد فسادات، کسانوں کا استحصال اور تہذیبی کشمکش ہے۔''لہو کے پھول'' گھروندا اور ''مدار'' ان کے خوبصورت ناول ہیں۔
جمیلہ ہاشمی تلاش بہاراں، چہرہ بہ چہرہ اور دشت سوس میںمضبوط متخیلہ رکھنے والی ادیبہ کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کے فن کے منفرد گوشے ''اپنا اپنا جہنم'' کے تین ناولوں میں بھی ظاہر ہوئے ہیں اور یہ معاشرتی آگہی کے زاویے عیاں کرتے ہیں۔
ممتاز مفتی کا ضخیم سوانحی ناول''علی پور کا ایلی'' سلسلہ در سلسلہ ان نفسیاتی پیچیدگیوں کو آشکار کرتا ہے جو اولاد سے والدین کی عدم توجہی کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں۔ ناول کا یہ بڑا تجربہ ممتاز مفتی سے مخصوص ہو کر رہ گیا ہے۔
عبداللہ حسین کے ناول''اداس نسلیں'' کا سیاسی و سماجی پس منظر انگریزی حکومت آخری سالوں پر محیط ہے لیکن اس دور کے واقعات ناول کی بنت میں پوری طرح سما نہیں سکے۔ اس کا مرکزی کردار نعیم اس عہد کی اداس نسل کا نمائندہ اس ناول کو اردو ادب میں ایک اہم مقام دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ''باگھ''، نشیب اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ناول ہیں۔
انتظار حسین کی واردات جو ہجرت کے تجربے سے پھوٹی تھی، ان کے ناول ''چاند گہن'' اور بستی کے باطن میں موجود ہے۔دن اور داستان میں انتظار حسین کاغیر روایتی انداز سامنے آیا۔ بستی کو انتظار حسین کے فن اور اردو ناول کی ایک اہم کڑی شمار کیا جاتا ہے اور ''تذکرہ'' کے عنوان سے نیا ناول منظر عام پر آیا۔
انور سجاد نے ''خوشیوں کا باغ'' اور جنم روپ میں اپنے عہد کے سیاسی تاثر کو علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ عدم توازن کا شکار معاشرے میں جاری و ساری ظلم و ستم انور سجاد کا خاص موضوع ہے۔
بانو قدسیہ نے ناول ''راجہ گدھ'' تک کا سفر ''پروا'' اور ''شہر بے مثال'' کے راستے سے طے کیا۔ ان ناولوں میں شدید ردعمل نمایاں ہے جو بانو قدسیہ کے دل کے کسی کونے میں بڑے شہروں کے خلاف موجود ہے۔ بانو قدسیہ کے یہ ناول اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
الطاف فاطمہ کے ناول دستک نہ دو ''چلتا مسافر'' میںمشرقی پاکستان کی تقسیم کو موضوع بنایا گیا ہے۔
غلام الثقلین نقوی کے ناول ''چاند پور کی نینا''، ''میرا گائوں'' میں تغیر کا عمل مشین کی آمد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ ناول ہر اس گائوں کا نمائندہ ناول بن جاتا جس کی نئی صورت گری میں مشین اور بجلی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں۔
''ایسا ناول تو کبھی کبھار ہی تخلیق ہوتا ہے لیکن جب تخلیق ہوتا ہے تو اپنے عہد کا سب سے اہم واقعہ قرار پاتا ہے''۱۲؎
اس کے ساتھ ساتھ فرخندہ لودھی کا ناول ''حسرتِ عرضِ تمنا''، فاروقی خالد کا ناول ''سیاہ آئینے''، خواجہ احمد عباس کے ''انقلاب'' ادب میں اپنی خاص جگہ تو نہیں بنا سکے مگر پسند کیے جانے لگے۔
قدرت اللہ شہاب کا ''یاخدا'' مظلوم عورت کا المیہ ہے۔ جسے فسادات کے مظالم نے بے حس بنا دیا تھا۔ سید انور کا ناول ''سومنات'' میں پاکستان نیوی کے کردار کو ۱۹۶۵ء کی جنگ سے ابھارا گیا ہے اور اس کے رومانی پہلو کو محبت کی ایک تخیلی کہانی سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔
صدیق سالک کے دو ناول ''پریشر ککر'' اور ''ایمرجنسی'' میں پاکستانی معاشرے کی سماجی شکستگی، اخلاقیات کے زوال اور روح کی زبوں حالی کو واقعاتی صداقت اور کرداروں کی وجودی معنویت سے پیش کیا گیا ہے۔
جو گندرپال نے ''نادید'' کی صورت میں ناول تخلیق کیا۔ اس ناول میں اندھوں کی دنیا سے ان ناروا حقیقتوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو آنکھیں رکھنے والے لوگوں کی دنیا کا عام معمول ہیں۔
انیس ناگی کے ناول ''دیوار کے پیچھے'' میں جو ہر انسانی کے وجودی رویے اور زندگی کی لایعنیت آشکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فہیم اعظمی کا ناول ''جنم کنڈلی'' غیر مربوط تکنیک میں ایک نیا تجربہ ہے۔ انہوں نے تلازمہ خیال سے بے معنویت کوآشکار کرنے کی سعی کی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کا موضوع نو آبادیاتی ہندوستان کا اخلاقی بحران رہا ہے۔ ''کئی چاند تھے سر آسماں'' میں ایک داستانی اسلوب رواں ہے۔
مرزا اطہر بیگ کا ''غلام باغ'' اردو ادب میں نمایاں ناول ہے۔ مرزا اطہر بیگ کے موضوعات میں اکیسویں صدی کے اہم واقعات پس نو آبادیاتی نظام اور معاشرے کے مسائل رہے ہیں جس کو وہ عمدہ اسلوب بیان میں ڈھال کر ناول کا لبادہ پہناتے ہیں۔
اردو ناول کا مندرجہ بالا تاریخی اجمال اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ یہ صنف موضوعی اور فنی لحاظ سے اب مقید نہیں، بلکہ اس میں اب وسعت آگئی ہے۔ مختلف ناول نگاروں نے اس میں بہت اضافے کئے ہیں۔ تجربات کیے ہیں، جس سے ناول کے فنی مرتبے میں حتیٰ الوسع اضافے ہوئے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ اب اردو ناول کا دامن کو تاہ نہیں یہ اب بھی ارتقاء کی طرف مائل ہے۔
حواشی
۱؎ ابواللیث صدیقی ڈاکٹر، آج کا اردو ادب، جدید اردو ناول، ص۱۹۷ تاص۱۹۸۔
۲؎ Walter Allen. The English Novel.P14
۳؎ The history of the English novel,
Arthur wing Volume-I,P,13,15
۴؎ عبدالحلیم شرر، مضامین شرر، جلد سوم، ص۲۳۰۔
۵؎ مظفر عباس، ڈاکٹر، اردو ناول کا سفر، ص۷۴ تا ص۷۵، گوہر پبلیکیشنز، لاہور، سن ندارد۔
۶؎ مرزا ھادی رسوا… سوانح حیات ،ادبی کارنامے ،طبع اول، لاہور، ص۱۳۳۔
۷؎ فیاض محمود۔ تاریخ ادبیات مسلمانان، پاکستان ،نویں جلد ص۴۹۹ دانش گاہ پنجاب، لاہور۔
۸؎ علی عباس حسینی، ناول کی تاریخ و تنقید۔ ص۳۳۵
۹؎ مظفر عباس، ڈاکٹر، اردو ناول کا سفر، ص۵۳۔
۱۰؎ احسن فاروقی، ڈاکٹر ،اردو ناول کی تنقیدی تاریخ۔ ص۲۴۸۔
۱۱؎ ممتاز احمد خان، ڈاکٹر ،آزادی کے بعد اردو ناول، انجمن ترقی اردو پاکستان،۱۹۹۷ء ص۱۱۱۔
۱۲؎ وزیر آغا، ڈاکٹر، دائرے اور لکیریں، ص۵۳
٭٭٭٭