ڈاکٹرناصر عباس نیئر
پوسٹ ڈاکٹرل فیلو، ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ ہائیڈل برگ یونیورسٹی جرمنی

’’ایک لفظ کی تاریخ ایک جنگ کی تاریخ سے زیادہ باتیں سکھاتی ہے۔‘‘ (احمد دین، سرگذشت الفاظ، ص ۱۴۹)
نو آبادیات، طویل المیعاد ثقافتی منصوبہ تھا۔ سادہ لفظوں میں یہ نوآبادیوں کی ثقافت کو یورپی اصولوں سے جاننے اور پھر اس جان کاری کو ’’نوآبادیاتی علم‘‘ میں تبدیل کرنے سے عبارت تھا۔ ’’نوآبادیاتی علم‘‘، علم کی وہ خصوصی شاخ ہے جس میں نتائج پر پہلے نظر رکھی جاتی ہے اور یہ نتائج فقط علمی نوعیّت کے نہیں ہوتے بلکہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی نوعیّت کے بھی ہوتے ہیں۔ اس علم کے ذریعے ایک واضح اور ’مفید‘ تبدیلی لانے کی کوشش ہوتی ہے۔ تبدیلی کی افادیت اور سمت کا تعیّن آبادکار کرتا ہے۔ چناں چہ سادہ لفظوں میں یہ وہ علم ہے جسے طاقت کے حصول کا ذریعہ بنایا جا سکتا یا طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا انگریزوں اور فرانسیسیوں کے لیے کسی ایشیائی یا افریقی ثقافت کے علم کا کوئی مفہوم اس وقت تک مرتّب نہیں ہو سکتا تھا، جب تک اس علم کے ذریعے اقتدار اور اجارہ حاصل نہ ہو یا علم، اقتدار کا متبادل نہ بن جائے۔ آبادکاروں کے لیے جاننا تسخیر کرنا تھا۔ سترھویں صدی عیسوی میں یورپی سائنسوں کا یہ عام اصول تھا۔
’’. . . .دنیا حسّیات کے ذریعے قابلِ فہم تھی، حسّیات فطری دنیا کے تجربے کو محفوظ کر سکتی تھیں۔ اس دنیا کے بارے میں عمومی عقیدہ تھا کہ یہ الوہی تخلیق ہے؛ تجربی طریقے سے قابلِ فہم ہے؛اور ان سائنسوں کو تشکیل دینے کی اہل ہے جن کے ذریعے فطرت کے ان قوانین کو منکشف کیا جا سکتا ہے جو دنیا، اور جو کچھ اس میں ہے، کو قابو میں رکھتے ہیں۱؂
نوآبادیوں کی ثقافتوں سے متعلق بھی یہ تصوّر قائم کیا گیا کہ وہ فطرت کی مانند قوانین رکھتی ہیں۔ ان قوانین کو تجربی طریقے سے منکشف کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات مشتبہ ہے کہ نوآبادیاتی ثقافتوں میں الوہی عناصر کی موجودگی کو بھی تسلیم کیا گیااور اگر کبھی تسلیم کیا بھی گیا تو ان کی الوہیت کو ایک ایسی فطری خاصیّت قرار دیا گیا جسے لاعلمی نے تقدس اور اسرار میں ملفوف کر دیا تھا۔ انیسویں صدی کا یہ عام سائنسی عقیدہ تھا کہ قوانین کا انکشاف اس بنیادی قوّت پر دست رس کو ممکن بنا دیتا ہے، جس کے ذریعے فطرت اور ثقافت کو اپنے مقاصد کے تحت ڈھالا جا سکتا ہے۔
کسی ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی کیاہے؟ یہ سوال ہر ثقافتی مطالعے میں دیر سویر سے ظاہر ہوتا اور نوآبادیاتی ثقافتی منصوبے کے بالکل ابتدائی مرحلے میں اس مسئلے کے حل پر ہی ثقافتی منصوبے کی کام یابی و ناکامی کا انحصار ہوتا ہے۔ ۱۶۱۵ء میں طامس رَو جہاں گیر کے دربار میں تجارتی مراعات کی درخواست لے کر حاضر ہوا تو اُسے جو سب سے بڑا عملی مسئلہ درپیش ہوا، اس سے متعلق اُس نے کمپنی کو لکھا:
’’ایک اور سخت تکلیف جو مجھے سہنی پڑی وہ ترجمان کی کمی تھی، کیوں کہ دلاّل وہی کچھ کہیں گے جو انھیں پسند ہوگا، بلکہ وہ بادشاہ کے خطوط میں ترمیم کر دیں گے۔‘‘ ۲؂
یعنی عملی مسئلہ جہاں گیر کے اصل منشأ کو جاننا تھا جو دربار کی زبان فارسی میں ظاہر ہوا تھا اور طامس رَو فارسی نہیں جانتا تھا۔ اُس نے فی الفور بھانپ لیا تھا کہ فارسی سے ناواقفیت اس پورے نوآبادیاتی منصوبے کو چو پٹ کر سکتی ہے، جسے ابھی چند تجارتی مراعات کے پردے میں چھپائے رکھنا قرینِ مصلحت سمجھا گیا تھا۔ چوں کہ فارسی کا علم جلد ممکن نہیں تھا، اس لیے اُس نے یونانی، آرمینی اور اطالوی لوگوں کو اپنا ترجمان بنایا جنھیں فارسی آتی تھی۔ جلد ہی ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے ملازمین کو احساس ہو گیا کہ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان سب سے بڑی ثقافتی رکاوٹ زبان ہے۔ اگر یہ رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو ہندوستان ان کے لیے اجنبی اور ناقابلِ تسخیر رہے گا۔ ہر چندایسٹ انڈیا کمپنی نے کئی مقامی لوگوں کو بچولیا بنایا۔ انھیں اخوند، دلاّل، دُوباشی، گماشتہ، پنڈت اور وکیل کے خطابات دے کر ہندوستانی ثقافت کی تھاہ پانے کی کوشش کی مگر یہ سراسر عارضی انتظام تھا۔ کمپنی کے ملازمین مقامی لوگوں سے ہمیشہ شاکی رہے۔ گل کرسٹ نے انگریزی ہندوستانی لغت کی تیاری میں فیض آباد کے کتنے ہی ’’فاضل ہندوستانیوں‘‘ کی خدمات مستعار لیں مگر گلہ مندرہا کہ ہندستانی پنڈت، منشی اپنے آقاؤں کے عام لوگوں سے براہ راست ابلاغ کی کوششوں کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ۳؂ ان کے شاکی ہونے کے بعض دوسرے پہلو بھی تھے۔ ایک یہ کہ صرف بچولیوں اور ترجمانوں پر انحصار کا مطلب ہندوستانی ثقافت اور زبان کے فقط قلیل حصے تک رسائی تھا جو نوآبادیاتی ثقافتی منصوبے کے لیے ہرگز موزوں نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ ہندوستانی ثقافت کے ان بنیادی قوانین تک رسائی چاہتے تھے جو اس ثقافت کی تہ میں موجود اور اس کارکردگی کو ممکن بنا رہے تھے۔ اس کے لیے اس ثقافت کا براہِ راست تجربی علم حاصل کرنا ضروری تھا۔ یہ سارا علم ہندوستانی زبانوں میں بند تھا: کلاسیکی اور ورنیکلر زبانوں میں۔
اٹھارھویں صدی عیسوی کے آخر میں، خصوصاً بنگال پر قبضے کے بعد، برطانوی آبادکار اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ہندوستانی زبانیں، ہندوستان کی ثقافت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہ بیک وقت زبان کا ثقافتی تصوّر اور ثقافت کا لسانی تصوّر تھا۔ زبان کا ثقافتی تصور، زبان کو محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں سمجھتا اور نہ ہی زبان کو فقط روز مرہ کے عملی معاملات میں ایک دوسرے کو شریک کرنے کا وسیلہ خیال کرتا ہے۔ ثقافتی تصور کی رُو سے زبان ایک باقاعدہ علامتی نظام ہے، جس میں کسی سماج کی پوری رُوح اور اس رُوح کے اسرار مضمرہوتے ہیں۔ زبان کا علامتی نظام ہی اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ آخر ایک سماج خاص طرح سے کیوں سوچتا؛ خاص انداز میں کیوں دنیا اور کائنات کا ادراک کرتا اور خاص طریقے سے کیوں واقعات پر ردِّ عمل ظاہر کرتا ہے؟ یہ کم و بیش وہی تصوّر تھا جسے اٹھارھویں صدی عیسوی میں گیرٹ نے یوں واضح کیا تھا:
’’جب کسی شخص کو معلوم پڑتا ہے کہ الوہی مخلوق کی وہ بڑی تعداد، جس کے حضور نسلِ انسانی صدیوں تک کانپتی اور سجدہ ریز رہی ہے، ہیرو غلیفی تحریروں سے اُبھری ہے تو وہ علامتوں کی قوت سے سہم جاتا ہے۔‘‘۴؂
اس سوال کا جواب آسان نہیں کہ برطانوی منتظمین زبان کے اس تصوّر تک کیوں کر پہنچے؟ آیا ہندوستان میں انھیں ہر قدم پر درپیش آنے والی ثقافتی رکاوٹوں کے شدید تجربات اور ان پر قابو پانے کی کوششوں نے زبان کا مذکورہ تصوّر قائم کرنے پر مجبور کیا یا اس عہد کا یہ عمومی یورپی لسانی تصوّر تھا؟ ایک بات واضح ہے کہ سترھویں صدی عیسوی میں زبان کا یہ تصوّر عام فہم نہیں تھا۔ زبان کے ثقافتی تصوّر تک پہنچنے کی غالباً اصل وجہ سترھویں صدی کے وہ عام یورپی سائنسی اصول تھے، جن کا ذکرہو چکا ہے۔ بہر کیف زبان کے ثقافتی تصور یا زبان کو علامتی نظام تصور کرنے کا مطلب اس بنیادی قوّت تک رسائی تھا جس کے آگے ایک سماج کے افراد خود کو ’بے بس‘ پاتے ہیں یعنی خود کو اور دنیا کو اسی قوّت کے ماتحت محسوس کرتے ہیں۔ لسانی اور لسانی ثقافتی علامتیں وہ چاک ہیں جن پہ لوگوں کی شخصیّتیں ڈھلتی ہیں۔ چناں چہ زبان کے ثقافتی تصوّر کا نتیجہ زبان کے تمام گفتاری اور تحریری مظاہر کو گرفت میں لینا تھا؛ لمحہء موجود میں بولی جانے والی زبان اور اس زبان میں ظاہر ہونے والے تحریری متون کا علم حاصل کرنا تھا۔ گویا اس ثقافت کی معاصر اور دستاویزی صورتوں تک رسائی پانا تھا اور ثقافت کے علم برداروں کی ذہنی و جذباتی کائنات تک پہنچنے کی کوشش کرنا اور ثقافت کو ثقافت کے علم کے ذریعے اپنے دائرہ اختیار میں لانا تھا۔ لہٰذا آبادکاروں نے اگر نوآبادیوں کی کلاسیکی زبانوں پر دست رس حاصل کی اور ورنیکلر زبانیں سیکھیں تو وجہ ظاہر ہے!
ثقافت کے لسانی تصور میں، ثقافت اسی طرح ’مرکزی نظام‘ ہے جس طرح زبان۔ چناں چہ ثقافت کو زبان کے منہاج پر سمجھا اور اس کے بنیادی ضابطوں اور رسمیات کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔ یہی بات ۱۸۳۴ء میں ساں بیو نے اس طرح کہی: ’’سماج کی اصل کے سوال کو براہِ راست زبان کی اصل کے سوال تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ ‘‘ ۵
حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیات میں زبان کے ثقافتی تصور کی ایجاد، لسانیات اور ثقافتی بشریات میں ایک عظیم پیش رفت تھی۔ اس سے نہ صرف زبان کا تصور وسیع ہوااور زبان آلہء ابلاغ سے بڑھ کر ثقافتی کردار کی حامل سمجھی جانے لگی بلکہ زبانوں کے اس تقابلی مطالعے کی سائنسی بنیاد بھی رکھی گئی، جس نے دنیا کو زبانوں کی تاریخ اور ان کے باہمی رشتوں کی تفہیم کا راستہ دکھایا۔ لسانیات میں یہ عظیم پیش رفت محال ہوتی، اگر مغربی دُنیا سنسکرت دریافت نہ کرتی۔ اسی حقیقت کے اعتراف کے طور پر ریمنڈ شواب نے سنسکرت کی دریافت کو ’’زبانوں کا امریکہ‘‘ دریافت ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔۶؂ اٹھارھویں صدی عیسوی تک مغربی لسانی مطالعات، بائبل کے نسلی اور مابعد الطبیعیاتی تصوراتِ لسان سے آزادی پانے کے لیے جھوجھ رہے تھے کہ اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں برطانوی مستشرقین نوآبادیاتی ضرورت کے تحت ہندوستانی کلاسیکی زبانوں کے مطالعے پر مائل ہوئے۔ کولمبس کی طرح مستشرقین کو بھی ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں تھا کہ ان کا سامنا کس عظیم دریافت سے ہونے والا ہے۔ میکس مولر نے برملا اعتراف کیا ہے کہ اُس کے پیش رَو ناکام ہوئے مگر اچانک ایک خوش گوار حادثہ ہوابالکل ایک برقی شعلے کی طرح!ان کے لیے سنسکرت کی دریافت نے لسانی مطالعات میں ایک روشن باب کا آغاز کیااور لسانی مطالعات کو بائبل کے نسلی اور مابعد الطبیعیاتی تعصّبات سے آزاد بھی کیا۔ میکس مولر نے زبان کی سائنس پر اپنے لیکچر میں واضح کیا کہ بائبل کے اثر سے لسانی مطالعے کا ہر پہلو بگاڑ کا شکار ہو گیا تھا۔ اس کے مطابق:
’’زبانوں کی تاریخ کو نسلوں کی تاریخ سے گڈ مڈ کرنے کے عمل نے ہر شے کو بگاڑ دیا؛ بائبل میں مذکور حقائق کسی بھی طرح اوائل زبانوں کے گروہ کو ضروری قرار نہیں دیتے؛ عہد نامہ عتیق کے (زبانوں کے) شجرے غیر متعلق ہیں۔ یہ جن اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں وہ ہماری اصطلاحوں سے لگاّ نہیں کھاتے۔‘‘۷؂
اس طور سنسکرت کے مطالعے سے لسانیات نے اس پیش قدمی کا آغاز کیا، جس کے بغیر لسانیات، سائنس نہیں بن سکتی تھی۔ لسانیات نے سائنس کا مرتبہ حاصل کرکے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور ادبی مطالعات میں کیا کیا نئی جہتیں پیدا کیں، یہ مطالعے کا الگ موضوع ہے۔
چوں کہ زبان کا ثقافتی تصور نوآبادیاتی سیاق میں وضع ہوا تھا، اس لیے اس تصور میں ثقافت کے اقداری عناصر کی شمولیت کی گنجائش نہیں ہو سکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیات میں زبان کا ثقافتی تصور بعض حوالوں سے محدود اور کم و بیش میکانکی تھا۔ نوآبادیاتی سیاق میں زبان طبعی مظہر کے ان جزوی حقائق (Data) کی طرح ہے، جن کا معروضی، واضح اور قطعی علم حاصل کیا جا سکتا؛ ان کے زمرے بنائے جا سکتے اور ان میں رشتے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ گریرسن نے اس بات کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’[ہندوستانی] زبانوں کو ایک یا دوسری ترتیب میں منظّم کرنا پڑا۔ اس سے گروہ سازی کی ضرورت پیدا ہوئی اور گروہ سازی نے رشتوں کے حوالے سے نظریات سے کام لینے کو ضروری قرار دیا۔‘‘۸؂
ایک طرف زبان کا ثقافتی تصور تشکیل دینا اور دوسری طرف اسے طبعی مظہر کی مانند سمجھنے کی کوشش کرنا ایک عجب علمی کوشش تھی جو سراسر تضاد سے عبارت تھی۔ غور کیجیے کہ زبان اگر ثقافتی اور علامتی وضع ہے تو لازماً ان اقدار اور رسمیات کی حامل ہے جنھیں زبان اور اس کی متعلقہ ثقافت نے مل جل کر جنم دیا ہے۔ ان اقدار کے اچھے یا برے ہونے اور ان رسمیات کے ناقص و صحیح ہونے کا پیمانہ خود یہ اقدار اور رسمیات ہیں۔ انھیں سمجھنے کی کوشش خود ان کے پیمانوں سے کی جا سکتی ہے۔ ان پر باہر سے یا کسی دوسرے سائنسی اصول یا ثقافتی اقداری نظام کی رو سے حکم نہیں لگایا جا سکتا مگر یہ حکم لگایا گیا۔ زبان بطور ثقافتی تصور کا مطالعہ جب اٹھارھویں اور انیسویں صدی عیسوی کے عام یورپی سائنسی اصولوں کے تحت کیا گیا اور زبان کی اقدار اور رسمیات کو طبعی مظہر کے جزوی حقائق کی صورت گرفت میں لیا گیا تو ان کے برے اور ناقص ہونے کے فیصلے صادر کیے گئے ۔ ان فیصلوں کی بنیاد کے آبادکارانہ مقاصد اور آبادکاروں کے ثقافتی اقداری پیمانے تھے۔ یہ فیصلے زیادہ تر ہندوستان کی ورنیکلر زبانوں سے متعلق تھے۔
زبان کی اقدار اور رسمیات سمندر کی تہ میں پڑے موتی نہیں ہوتے کہ آسانی سے نظر نہ آئیں۔ یہ سمندر کی ان لہروں کی مانند ہیں جو سمندر کی روانی کا نتیجہ اور مظہر ہیں۔ لہٰذا ممکن نہیں کہ سمندر (زبان) کا نظارہ اس کی لہروں (اقدار و رسمیات) کے بغیر کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اوّل اوّل یورپیوں کی نوآبادیاتی اغراض غیر علانیہ تھیں تو انھوں نے ہندوستان کی زبانوں کی اقدار کے حسن اور رسمیات کی خوبی کو محسوس کیا اور ان کی تحسین کی۔ ایڈورڈٹیری (جو طامس رَو کے ساتھ ہندوستان آیا تھا) نے ’’ایسٹ انڈیز کا سفر‘‘ (۱۶۵۵ء) میں ’انڈوستانی‘ (ہندوستانی) یعنی اردوکو رواں زبان کہا اور اسے بہت سی باتوں کو چند لفظوں میں بیان کرنے کی خوبی سے متصف قرار دیا، مگر جب ’ہندوستانی‘ اور دیگر زبانوں کے باقاعدہ یورپی مطالعات شروع ہوئے اور ان مطالعات کو اپنے نظامِ حکمرانی کا حصہ بنایا گیا تو برنار ڈایس کوہن کے مطابق ایک ’’علمیاتی عرصہ‘‘ اور ڈسکورس (شرق شناسی) وجود میں آیا جس کے ذریعے علم کی ہندوستانی صورتوں کو یورپی اشیأ میں تبدیل کر دیا گیا۔۹؂ گویا ہندوستانی زبانوں کو یورپی اصولوں اور نوآبادیاتی مقاصد کے تحت زیر مطالعہ لایا گیا۔ ان کا مطالعہ خالص علمی اور بے غرضانہ نہیں تھا، ایک ڈسکورس تھا جو طاقت اور اجارے کی حکمت عملی سے لازماً ملوث ہوتا ہے۔ اب ہندوستانی زبانوں کے یورپی مطالعات (قواعد، لغات، تحقیق، تراجم، نصابی کتب) دراصل وہ ’یورپی اشیأ‘ تھے جن کی اقدار اور رسمیات کا پیمانہ ہندوستانی زبانیں نہیں، یورپی اور استعماری تصورات تھے۔ اس امر کی ایک عام مثال گریرسن کا وہ تبصرہ ہے جو اس نے ایڈورڈیٹری کی مذکورہ بالا رائے پر کیاہے۔ گریر سن فرماتے ہیں: ’’ہندوستانی کو یہ بلااستحقاق شہرت کئی نسلوں تک حاصل رہی۔‘‘ آگے وہ کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک ابتدائی انگریز جج کا قصہ لکھتے ہیں جس نے ایک شخص کی سزا ئے موت کا طویل فیصلہ انگریزی میں لکھا۔ فیصلے میں جرم کی شدید نوعیت، مجرم کے والدین کے غم ناک احساسات اور توبہ کے بغیر مجرم کی عاقبت کے خراب ہونے کا تفصیلی ذکر کیا۔ جج نے عدالت کے ترجمان سے کہا کہ وہ قیدی کے لیے فیصلے کا ترجمہ کر دے۔ یہ ترجمہ فقط چھ الفاظ پر مشتمل تھا: ’’جاؤ، بدذات، پھانسی کا حکم ہوا۔‘‘ ایک طویل فیصلے کا اتنے کم لفظوں میں اس قدر مؤثر ترجمہ! جج ہندوستانی(اردو) زبان کے ایجاز پر ششدر ہوا اور تحسین کیے بنا نہ رہ سکا۔۱۰؂ گریرسن کے نزدیک ٹیری اور جج کی تحسین و حیرت بلاجواز اور بلااستحقاق ہے۔ کیوں؟ اس لیے نہیں کہ گریرسن، ایڈورڈٹیری اور انگریز جج کی نسبت ہندوستانی زبان کی روانی اور ایجاز کی صلاحیت کو پہچاننے اور پھر فیصلہ دینے کی بہتر مہارت رکھنے کے دعوے دار ہیں کہ اُن کے برعکس گریرسن ہندوستانی زبانوں کے باقاعدہ محقّق اور لسانیات کے ماہر ہیں۔ اصل یہ ہے کہ گریرسن کا ’ہندوستانی‘ کی روانی اور ایجاز کو بلا استحقاق قرار دینا اُس مؤقف اور پوزیشن کا اظہار ہے جو شرق شناسی کے ڈسکورس ہی کا ایک جز ہے اور جس کے تحت نوآبادیاتی ممالک کی زبانوں کو خود ان کی اقدار و رسمیات کے پیمانے سے نہیں یورپی آبادکارانہ مقاصد کے تحت سمجھا جاتا اور ان کے بارے میں آرأقائم کی جاتی ہیں۔ اسی بات کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ گریرسن نے جس ’علمیاتی پوزیشن‘ سے ہندوستانی زبانوں کا جائزہ مرتب کیا، اس کی رو سے زبانوں کی فصاحت و بلاغت کی اقدار کا تصور تک محال تھا۔ زبانیں محض جزوی حقائق(data)تھیں؛ قابلِ مشاہدہ حقائق کی حامل تھیں جنھیں جمع کیا جا سکتا اوران کے زمرے اور شجرے بنائے جا سکتے تھے اور صرف اسی صورت میں زبانوں کے علم کو ’’نوآبادیاتی علم‘‘ میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ زبانوں کو خود ان کے ثقافتی تناظر میں سمجھنے اور خود ایک زبان کی رسمیات و ضوابط کو اس زبان کے لیے حکم بنانے کا آغاز سوشیور کے نظریات سے ہوا۔
سترھویں اور اٹھارھویں صدی عیسوی میں لسانیات کا علم ابتدائی مرحلے میں تھا۔ چناں چہ یورپی آبادکاروں اور مستشرقین نے ہندوستانی یا افریقی زبانوں کے مطالعے کے لیے عموماً یورپی سائنس کے ان عام اصولوں سے کام لیا جو طبعی اور سماجی مظہر میں فرق نہیں کرتے تھے۔ روشن خیالی کی عقلیت پسندی انہی اصولوں سے عبارت تھی، جو آفاقی اور غیر مبدل اصولوں کو دریافت کرتی تھی۔ عقلیت پسندی اور آفاقیت پسندی کے اصول اس حقیقت کے سلسلے میں بالکل کورے تھے کہ زبان سمیت دوسرے سماجی مظاہر کا ایک اپنا علاماتی نظام (Semiotic System) ہوتا ہے جو طبعی مظاہر میں یک سر مختلف تو ہوتاہے ہی، دوسری زبانوں سے بھی مختلف ہوتا ہے۔ گویا ہر زبان کا ’’نظامِ معانی‘‘ الگ ہے مگر سترھویں تا انیسویں صدی عیسوی کے یورپی لسانی مطالعات میں زبانوں کے جداگانہ نظام ہائے معانی کا تصور عام طور پر موجود نہیں تھا۔ اس تصور کی عدم موجودگی نے عجب گل کھلائے۔ انگریزی میں معنی کا تصور یہ تھا کہ معنی لفظ میں مقیّد ہوتا ہے مگر معنی ہمیشہ کے لیے ایک لفظ میں مقیّد نہیں ہوتا، معنی کو نہ صرف ایک لفظ سے دوسرے لفظ میں بلکہ کسی فطری مظہر میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ چناں چہ سو فی صد ترجمہ ممکن اور ٹھیک مترادفات موجود ہو سکتے ہیں۔ گویا معنی آفاقی ہے جس کی ایک بنیادی اور غیر مبدل ساخت ہوتی ہے۔ اسے ایک زبان کے ایک سے زیادہ لفظوں اور کسی دوسری زبان کے کسی لفظ میں مقید کیا جا سکتا ہے۔ معنی کے اسی تصور کے تحت ہندوستانی زبانوں سے انگریزی میں تراجم کیے گئے اور یہ اطمینان محسوس کیا گیا کہ تراجم اصل متن کا متبادل ہیں۔ گل کرسٹ نے The Anti-Jargonist میں ترجمہ کاری کی وضاحت دراصل مذکورہ تصورِ معنی کے تحت ہی یوں کی ہے۔
’’میں نے ہر پیراگراف کا احتیاط سے جائزہ لیا، جانچا اور اسے درست کیا، یہاں تک کہ ہم [گل کرسٹ اور ہندوستانی منشی] نے وہ اصل ترجمہ حاصل کر لینے پر دو طرفہ اطمینان محسوس کیا، جس کی اصل متن سے مطابقت اب ایک نئی آزمائش سے مشروط ہے۔ میں اس ترجمے کو لفظ بہ لفظ انگریزی میں ہندوستانی متن کی اصل ترتیب کے ساتھ پھر منتقل کرتا ہوں اور اگر تقسیم بذریعہ ضرب کے ثبوت کی طرح، یہ ترجمہ آزمائش پر پورا اترتا ہے تو میں مطمئن ہوں اور مجھے اسے اصل دستاویز کے کامل حقیقی عکس کے طور پر پیش کرنے میں حذر نہیں۔‘‘۱۱؂
گل کرسٹ کے متن کو ترجمے اور ترجمے کو متن میں الٹنے پلٹنے اور اسے ضرب تقسیم کے پڑتالی قاعدے کی طرح انجام دینے کے پسِ پشت دراصل یہ عقیدہ کام کر رہا ہے کہ ایک زبان کے دوسری زبان میں ٹھیک اور قطعی مترادفات موجود ہیں اور انھیں محنت سے دریافت کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی زبانوں میں بھی معنی کا یہی تصور کارفرما تھا؟
برنار ڈایس کوہن نے کہا ہے کہ سترھویں صدی عیسوی کے یورپی علامات اور مطابقتوں کی دنیا میں جب کہ ہندوستانی ’واقعی اور مادی‘ دنیا میں رہتے تھے۔۱۲؂ لہٰذا مغل ہندوستان میں معنی کا تصور انگریزی سے بالکل مختلف تھا۔ ہندوستانی فارسی میں معنی اپنے متعلقہ لفظ یا شے کے علاوہ ناقابلِ انتقال تھا، اس لیے کہ الفاظ اور اشیأ سے تصورات اور اقدار کا ایک ایسا سلسلہ منسلک تھا، جسے دربار کے کلچر نے بطور خاص پیدا کیا تھا اور جسے لفظ سے جدا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بادشاہ جب کوئی فرمان جاری کرتا یا کسی کو خطاب سے نوازتا تو وہ محض حکم اور تحسین سے بڑھ کر ہوتالہٰذانہ ان کا ترجمہ ممکن تھا نہ ان کا کوئی متبادل و مترادف۔
معنی کے آفاقی اور مخصوص لفظ کی قید سے آزاد ہونے کا یورپی تصوّر ایک زبردست تضاد کا حامل بھی تھا، جس کی طرف ابتداً دھیان نہیں تھا۔ اگر ’’یورپی معانی‘‘ کے ٹھیک ٹھیک مترادفات ہندوستانی زبانوں میں موجود ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ یورپ اور ہندوستان ’’مطابقتوں اور علامات‘‘ کی ایک ہی دنیا میں رہتے بستے ہیں مگر استعماری تخیّل کے لیے اس سے زیادہ صدمہ انگیز تصوّر ہو ہی نہیں سکتا۔ استعماری تخیّل فرق و امتیاز، درجہ بندی اور تقسیم و تفریق کی جس فرضی دنیا کو وجود میں لاتا ہے، اس میں ’’مطابقت و مترادف‘‘ کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جلد ہی معانی کے آفاقی تصوّر کو یا تو ترک کر دیا جاتا ہے یا اسے یورپی تہذیب کے اس آفاقی بیانیے میں بدل دیا جاتا ہے، جسے ہر جگہ اور ہر زمانے کے لیے مثالی نمونہ قرار دیا جاتا ہے اور اس کے رواج کی مساعی کی جاتی ہیں۔
یورپیوں نے ہندوستانی زبانوں کا مطالعہ اپنی زبان کے نظامِ معنی کے تحت کیا۔ نوآبادیاتی سیاق میں زبان کا سوال اوّل اوّل ایک ثقافتی رکاوٹ کے طور پر سامنے آتا اور بعد ازاں ایک ثقافتی منصوبے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ثقافتی رکاوٹ دور کرنے کی غرض سے محکوم ملکوں کی کلاسیکی اور ورنیکلر زبانیں سیکھی جاتی؛ ان کے قواعد، لغات مرتب کیے جاتے؛ ان پر تحقیق کی جاتی اور ان کی تحصیل و تعلیم کے لیے ادارے وجود میں لائے جاتے ہیں۔ دراصل جب تک یہ ثقافتی رکاوٹ موجود ہے، محکوموں کے لیے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں نہ ان سے ٹیکس اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور نہ اپنے وضع کیے گئے قانون کی حکم رانی قائم کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ثقافتی رکاوٹ دور کرنے کا یہ طریقہ، جس میں نوآبادیاتی باشندوں سے خود ان کی زبان میں تخاطب ہوتا اور ان باشندوں کے مذہب و آئین سے براہِ راست شناسائی کی کوشش ہوتی ہے، طاقت ہی کے حصول کا واضح منشالیے ہوتا ہے مگر نوآبادیات کو فقط طاقت کے حصول سے نہیں، طاقت پر حتی المقدور، اجارے کی خواہش بھی ہوتی ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کے ایک حربے کے طور پر آبادکار اپنی زبان مسلط کرتا ہے۔ زبان کا یہ تسلط ایک کثیر المقاصد ثقافتی منصوبہ ہوتا ہے۔ چوں کہ آباد کار اسی عرصے میں اپنی زبان کے نفاذ کا فیصلہ کرتا ہے، جب نوآبادیاتی ملکوں کی زبانوں کی تحصیل و تحقیق کی ایک باقاعدہ روایت تشکیل پا رہی ہوتی ہے، اس لیے مقامی زبانوں اور انگریزی و فرانسیسی کے حامیوں میں تنازع بھی جنم لیتا ہے۔ تاہم یہ تنازع مقصد پر نہیں، مقصد کے حصول کے طریقِ کار پر ہوتا ہے۔ اس تنازعے میں انگریزی و فرانسیسی کے حامی جیت جاتے اور اس کے ساتھ ہی نوآبادیاتی ممالک ایک بالکل نئی ثقافتی صورتِ حال میں داخل ہوتے ہیں۔
محکوم ملکوں میں انگریزی و فرانسیسی کے نفاذ کے فیصلے کے پیچھے دراصل زبان کی ’کثیر الجہتی طاقت‘ کا غیر متزلزل یقین کارفرما ہوتا ہے۔ زبان کی اس طاقت کو یورپ نے سترھویں صدی عیسوی کے آس پاس اس وقت دریافت کیا تھا، جب یورپی ’ورنیکلر زبانوں‘ (جیسے انگریزی، فرانسیسی، جرمن وغیرہ) نے کلاسیکی لاطینی کی جگہ لینی شروع کی، خصوصاً جب عیسائی مذہبی متون کے یورپی ورنیکلر میں تراجم ہوئے۔ اس کے بعد تو گویا دبستان کھل گیا۔ یورپی ورنیکلر میں ’متن سازی‘ کا وہ لامحدود عمل شروع ہوا، جس نے ورنیکلر کو نہ صرف کلاسیکی لاطینی سے بڑھ کر سماجی حیثیت دی بلکہ نشاۃ ثانیہ اور پھر جدیدیت کو بھی ممکن بنایا۔ یورپی جدیدیت کے وجود میں آنے اور فروغ پانے میں ایک اہم کردار یورپی دیسی زبانوں میں ان متون کا (بصورت ترجمہ یا طبع زاد) وجود میں آنا تھا جو کلاسیکی متون کے حریف ہی نہیں اثر و عمل میں، بڑھ کر بھی تھے۔ اس طور یورپ نے ایک عظیم ثقافتی تبدیلی میں زبان کی طاقت اور کردار کا تاریخی علم حاصل کیا تھا۔
وینا نریگل کے بقول: ’’استعماری تخیّل کی مدد ان طریقوں کی ثقافتی یادداشتوں نے کی جن کے ذریعے یورپی ورنیکلر نے اپنی جدید کارانہ صورتیں، یونانی اور لاطینی سے براہِ راست تراجم کی وجہ سے اختیار کیں۔‘‘۱۳؂ دوسرے لفظوں میں جب یورپ کے دل میں استعماری امنگیں جاگیں اور وہ توسیع پسندی کے عالم گیر عزائم لے کر ایشیا و افریقہ پہنچا تو اس کے پاس یہ تاریخی و تجربی علم تھا کہ زبان ثقافتی تبدیلی کا غیر معمولی ملکہ رکھتی ہے۔ ایک زبان دوسری زبان کو بے دخل کر سکتی؛ ایک زبان، دوسری زبان کو شرف و اقتدار سے محروم کر سکتی؛ ایک زبان، کسی دوسری زبان کے سارے ’’متنی سرمائے‘‘ کو بڑی حد تک اپنی دست رس میں لا سکتی اور نئی طبقاتی اور ثقافتی شناختوں کو وجود میں لا سکتی ہے۔ اسی علم کو یورپ میں جدیدیت (ماڈرینٹی) اور جدید کاری (ماڈرنائزیشن) کے لیے استعمال کیا گیا اور اسی علم کو ایشیا و افریقہ میں یورپی استعماری تخیّل نے ’کلچرل پالیٹکس‘ کے لیے برتا۔ ایشیا و افریقہ کی نو آبادیوں میں جدیدیت اور جدید کاری کی جو لہر پیدا ہوئی اور ان کی جو صورتیں سامنے آئیں وہ اسی ’کلچرل پالیٹکس‘ یعنی ثقافتی سیاست کا بالواسطہ نتیجہ یا باقاعدہ حصّہ ہیں اور یہی حقیقت یورپی جدیدیت کو نوآبادیاتی ممالک کی جدیدیت سے جدا بھی کرتی ہے۔
ثقافتی سیاست کی کام یابی اس میں تھی کہ اس کا ایک تمثال(پر سونا) تیار کیا جاتا۔ چناں چہ ۱۸۳۷ء میں جب انگریزی کو ہندوستان میں ذریعۂ تعلیم اور عدالتی زبان کے طور پر نافذ کیا گیا تو اس کے اصل منشأ پر مشنری مقصد کا نقاب چڑھایا گیا۔ اوّل یہ بات ثابت کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی کہ تمام نوآبادیاتی ممالک تہذیب سے عاری ہیں۔ تہذیب کو ایک وسیع المعانی اصطلاح کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس میں علم، اخلاق، قانون، امن، ادب ایسے کئی عناصر شامل سمجھے گئے۔ ہر چند نوآبادیاتی ملکوں کے کلچر میں یہ عناصر پہلے سے موجود تھے مگر انھیں یورپی معیارات سے جانچا گیا اور ان سے مختلف و متصادم سمجھا گیا۔ مختلف و متصادم عناصر کی ثقافتی تعبیروں کا ٹنٹا پالنے کے بجائے یورپی تہذیب کو برتر اور کسوٹی قرار دے دیا گیا۔ نوآبادکار جب یہ ثابت کرنے میں کام یاب ہو گیا کہ ان کی نوآبادیوں میں یورپی طرز کی تہذیب کا گزر نہیں؛ اور یہ کام یابی بڑی حد تک ریاستی اداروں پر اجارے کا نتیجہ تھی __ تو اسے بقول ارل گرے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں تھا : ’’کیا اس میں کوئی شک ہو سکتا ہے کہ سفید آدمی کو لازماً اپنی برتر تہذہب کو کالی نسلوں پر مسلط کرنا ہے اور وہ کرے گا۔‘‘۱۴؂ اسی بات کو زیادہ زور دار پیرائے میں لاہور ہی میں پیدا ہونے والے رُڈیارڈکپلنگ نے' The White Man's Burden ' میں پیش کیا۔ فروری ۱۸۹۹ء میں Mc Cluver's Magazine میں شائع ہونے والی اس نظم میں نوآبادیاتی باشندوں کو ’نصف شیطان اور نصف بچے‘ قرار دیا گیا تھا، جنھیں مہذب بنانے کا بارِگراں سفید آدمی نے اپنے نازک شانوں پر لیا۔
Take up the white Man's burden--
Send forth the best ye bread - -
Go, bind your sons to exil
To serve your captive's need;
To wait, in heavy harness,
on fluttered and will - -
Your new-caught sullen peoples.
Half devil and half child 15
’نصف شیطانوں اور نصف بچوں‘ کو مہذب بنانا ثقافتی منصوبہ تھا۔ اس کے لیے انگریزی کو ’مہذب بنانے کی قوت‘ کے طور متعارف کرایا گیا۔ اہلِ یورپ نے زبان کی تہذیب سازی کی قوت کا تصور اسی ’ورنیکلر ائزیشن‘ سے اخذ کیا تھا، جس کے ذریعے دیسی انگریزی نے کلاسیکی لاطینی و یونانی کی جگہ لی تھی۔ اسی لیے میکالے نے اپنی مشہور رپورٹ میں یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ انگریزی کا ہندوستان کے لیے وہی کردار ہو گا جو لاطینی و یونانی کا مغربی یورپ کے لیے تھا۔ اس کا ٹھیک مطلب تو یہ تھا کہ جس طرح انگریزی نے لاطینی و یونانی کے متنی سرمائے سے قوّت کشید کی تھی، اسی طرح ہندوستانی دیسی زبانیں انگریزی سے طاقت حاصل کریں گی اور بالآخر ہندوستان میں جدیدیت اور جدیدکاری کا وسیلہ بنیں گی مگر یہ ’مطلب‘ بھی تمثال(پر سونا) ہی تھا، اصل مقصد انگریزی کا تسلط تھا۔ اس تمثال(پر سونا) کو ارنسٹ کراسبی نے، کپلنگ کی نظم کے جواب میں لکھی گئی The Real White Man's Burden میں تار تار کیا تھا جو فروری ۱۸۹۹ء میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی تھی۔
Take up the White Man's burden;
To you who thus succeed
In civilizing savage hoards
They owe a debt, indeed;
concessions, pensions, salaries,
And privilege and right,
With outstretched hands you raise to bless
Grab every thing in right 16
انگریزی کو ’مہذب بنانے اور جدیدیت برپا کرنے کی قوت‘ کے طور پر پیش کرنا ڈسکورس تھا: علمی اور ثقافتی مطمح نظر کے پردے میں طاقت وا جارے کا حصول تھا۔ چناں چہ ۱۸۴۴ء میں برطانوی استعمار نے فیصلہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں صرف ان ہندوستانیوں کو ترجیح دی جائے گی جو انگریزی جانتے ہوں۔۱۷؂ انگریزی زبان کے علم کو ماتحت ملازمتوں سے جوڑنے کے ساتھ ہی سفید آدمی کے اس ثقافتی منصوبے سے نقاب ہٹ گیا جس کا مقصد ہندوستان کو ’’مہذب اور جدید‘‘ بنانا ظاہر کیا گیا تھا۔ چناں چہ انگریزی نظامِ تعلیم کے ذریعے زیادہ تر وہ کلرک اور ماتحت ملازم ہی پیدا ہوئے جو بلند تر انسانی مقاصد سے نا آشنائے محض تھے۔ جلد ہی یہ بات عیاں ہوتی چلی گئی کہ انگریزی کو طاقت اور تحکم کی زبان کے طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ انگریزی ’’لسانی استعمار‘‘ کا ذریعہ، مظہر اور استعارہ بنی۔
لسانی استعماریت کا سادہ مطلب کسی زبان کا ایسا غلبہ ہے جو دیگر زبانوں کی پسپائی اور استحصال کی شرط پر ہو۔ لسانی استعماریت میں ایک زبان سے وہ قوت وابستہ کر دی جاتی ہے جو دوسری زبانوں کو طاقت اور انھیں سماجی عرصے میں حاصل مقام سے محروم کرتی چلی جاتی ہے۔ زبان کی قوت بقول رابرٹ فلپسن ، ساختی اور ثقافتی ہے۔ ساختی، مادی خصوصیات (جیسے ادارے، معاشی مفادات) اور ثقافتی، غیر مادی یا آئیڈیالوجیکل خصوصیات رکھتی ہے۔۱۸؂ لہٰذا انگریزی کی استعماریت کو قائم کرنے کے لیے اسے ریاستی و تعلیمی امور کی زبان بنایا گیا؛ سرکاری عہدوں کے لیے لازم کیا گیا اور معاشی مفادات کے حصول کا اہم ذریعہ بنایا گیانیز اس سے عزت، وقار، برتری، اسٹیٹس کو جوڑ دیا گیا۔
یہ واضح کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں یہ صلاحیت خلقی طور پر موجود ہوتی ہے کہ وہ ساختی قوت حاصل کر سکے۔ ثقافتی قوت تو زبان میں پہلے سے موجود ہوتی ہے اور اس کا اظہار اپنے متعلقہ سماجی گروہ کو منفرد شناخت دینے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر زبان، سرکار دربار کی زبان اور عزت، وقار کی علامت بننے کی اہلیت، خود زبان اپنی تشکیل کے عمل ہی میں حاصل کر لیتی ہے۔ لسانی استعماریت قائم کرتے ہوئے زبانوں کی اس صلاحیت کا نہ صرف شعور موجود ہوتا ہے، بلکہ اس شعور سے ایک قسم کا خوف بھی وابستہ ہوتا ہے۔ اس خوف کی کم و بیش وہی کیفیت ہوتی ہے جس کا تجربہ کسی بھی آمر کو لوگوں کی ممکنہ بغاوت کے سلسلے میں عام طور پر ہوتا ہے۔ چناں چہ لسانی استعماریت میں یہ کوشش مسلسل کی جاتی ہے کہ دوسری زبانیں معاشی اور نظریاتی قوت حاصل نہ کر سکیں۔ وہ تمام راستے مسدود کرنے کی کوششیں ہر سطح پر کی جاتی ہیں جو دوسری زبانوں کی ترقی و فروغ کے ہوتے ہیں۔ اس طور لسانی استعماریت زبانوں کے مابین غیر مساویانہ رشتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔
لسانی استعمار کے سلسلے میں پہلی کوشش، استعماری زبان اور دوسری زبانوں میں عدم مساوات کو ابھارنا اور باور کرانا ہوتی ہے۔ لارڈ میکالے کا یہ بیان کہ ’’یورپ کی کسی اچھی لائبریری کی الماری میں ایک تختے پر رکھی ہوئی کتابیں، ہندوستان اور عرب کے مجموعی سرمایہ علمی پر بھاری ہیں۔‘‘ یا یہ دعویٰ کہ ’’مجھے کوئی بھی ایسا مستشرق نہیں ملا جس نے یہ دعویٰ کرنے کی جسارت کی ہو کہ عربی اور سنسکرت کے شعری سرمائے کا عظیم یورپی اقوام کی تخلیقاتِ شعری سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے___‘‘۱۹؂ اصلاً انگریزی اور ہندوستانی کلاسیکی زبانوں میں عدم مساوات کو خالصتاً نظریاتی بنیادوں پر ابھارنے کے سلسلے میں تھا۔ میکالے کے خیالات ایک حد تک، ان مستشرقین کی مخالفت میں ظاہر ہوئے تھے جو ہندوستانیوں کو ان کی کلاسیکی زبانوں کی تعلیم دینے کے حق میں تھے کہ اس حکمت عملی سے ہندوستانیوں کے دل جیتے جا سکتے تھے لیکن میکالے ہندوستانیوں کے دل جیتنے کے بجائے ان کے ذہن بدلنے کے حق میں تھا۔وہ ایسا ہندوستانی طبقہ وجود میں لانا چاہتا تھا جو دیکھنے میں ہندوستانی مگر ذوق و ذہن کے اعتبار سے انگریز ہو۔ دیکھا جائے تو میکالے زبان کی ساختی اور ثقافتی طاقت کا علم اور اس طاقت کو بروئے کار لانے کی حکمت عملی کا شعور، مستشرقین کے مقابلے میں زیادہ رکھتا تھا۔ ہندوستانیوں کے دل جیتنا اور دماغ بدلنا، دونوں کے سیاسی مقاصد تھے مگر مستشرقین کی حکمت عملی میں مقامی ثقافت کے لیے کسی نہ کسی درجے میں ہمدردی موجود تھی اور میکالے سمیت دوسرے انگریزی پسندوں کی تدبیر میں جارحیت تھی۔ مستشرقین ہندوستانیوں کو ہندوستانی مذہبی و ثقافتی طریقوں کے تحت تابع رکھنے کے حامی تھے۔ اسی لیے وارن ہیسٹنگز نے مسلمانوں کے لیے کلکتہ مدرسہ اور لارڈ منٹو نے ہندوؤں کے لیے بنارس کالج قائم کیا۔ دوسرے لفظوں میں انھوں نے زبان کی محض ثقافتی قوت کا ادراک کیا تھا اور اس قوت کو ملیا میٹ کرنے کے بجائے اسے سیاسی و استعماری مقاصد کے لیے ابھارا تھا۔ اس کے برعکس انگریزی پسندوں کے نزدیک انگریزی زبان کی ساختی قوّت کو ابھارنا اہم تھا اور ان کا مؤقف تھا کہ ہندوستانی ثقافتی طریقوں کے بجائے انگریزی طریقوں سے ہندوستانیوں کو تابع رکھنے کا عمل زیادہ مفید تھا۔ چنانچہ میکالے سے پہلے چارلس ٹریویلین نے یہ مؤقف پیش کیا تھا : ’’انگریزی ادب بلاشبہ مقامی سوچ پر استعماری گرفت کے نہایت مؤثر ذرائع میں سے ایک ہے۔‘‘۲۰؂
انگریزی کے استعماری غلبے سے ہندوستان کی کلاسیکی اور دیسی زبانوں میں عدم مساوات پوری طرح قائم ہو گئی۔ ایک نیا طبقہ بھی وجود میں آ گیا جو ذوق وذہن کے لحاظ سے انگریزتھا۔ حقیقت میں یہ طبقہ انگریزی کاتمثال(پر سونا) تھاجو خالصتاً انگریزی استعماری مقاصد کے لیے انگریز ہونے کی اداکاری کرتا تھا۔ اس مشقت کے صلے میں وہ انگریزی حکومت کے سیاسی، معاشی حاصلات میں اُس ادنیٰ سطح پر شریک تھا جو انگریز آقاؤں کے دل میں تمام ہندوستانیوں کے لیے تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی استعماریت نے زبان کی جس ساختی و ثقافتی قوت کا ادراک کیا تھا، اس کی مدد سے وہ ’مقامی سوچ‘ پر ناقابل شکست استعماری گرفت رکھنے میں کام یاب ہوئی؟
اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ لسانی استعماریت مقامی زبانوں سے مادی اورنظریاتی سطح پر جو فاصلہ اختیار کرتی ہے۔اس کے نتیجے میں مقامی زبانوں میں احساسِ محرومی اور احساس شکست پیدا ہوتا اور پھر یہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ لسانی استعماریت کی توقعات کے عین برعکس یہ احساسِ شکست و محرومی مقامی زبانوں سے وابستگی اور ان کے ذریعے اپنی ثقافتی شناخت استوار کرنے کے جذبے کو بڑھا وا دیتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ لسانی استعماریت سے پہلے مقامی لوگوں میں زبان کے حوالے سے اپنی ثقافتی اور قومی شناخت پر اصرار موجود نہیں ہوتا۔ یہی ’لسانی ثقافتی قومی شناخت‘ گو محرومی و پسپائی کا دل خراش احساس لیے ہوتی ہے لیکن یہ لسانی استعماریت کو اس بساط پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے باز رکھتی ہے جو مقامی سوچ کو مفلوج و معطّل کرنے کی غرض سے بچھائی جاتی ہے۔کثیر لسانی معاشروں میں جب ’’لسانی قومی شناخت‘‘ پر اصرار بڑھ جاتا ہے تو علیحدگی پسندی اور آزادی کی تحریکیں بھی پیدا ہوتی ہیں اور ان کا ہدف خود لسانی استعماریت اور اس کے مظاہر بھی بنتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ لسانی استعماریت زبان کی ثقافتی قوت کو بھی ابھارتی ہے اور اس کا ذریعہ ’یورپی سائنسوں اور یورپی ادبیات‘ کی تدریس ہوتا ہے۔ ہرچند اس سے یہ باور کرانا مقصود ہوتا ہے کہ حقیقی علم اور بڑا ادب صرف انگریزی یا فرانسیسی میں ہے اور ان کے مقابلے میں تمام ایشیائی و افریقی زبانیں پس ماندہ و درماندہ ہیں۔ٹی بی میکالے کے مطابق ’’اس زبان (انگریزی) نے فطرتِ انسانی اور حیاتِ انسانی کی متوازن اور شگفتہ ترجمانی کی ہے۔ اس زبان میں ہر تجرباتی علم کے بارے میں ایسی مکمل اور صحیح معلومات دستیاب ہیں جن کی مدد سے صحتِ عامہ کا تحفظ ہو سکتا ہے . . . اور فراستِ انسانی کو نئی نئی وسعتیں مل سکتی ہیں۔ انگریزی زبان سے جسے بھی واقفیت ہے، اسے اس وسیع فکری اثاثے تک ہمہ وقت رسائی حاصل ہے جسے روئے زمین کی دانش ور ترین قوموں نے باہم مل جل کر تخلیق کیا ہے۔‘‘۲۱؂ زبان کا یہ حدر درجہ پر شکوہ، تفاخر آمیز اور بڑی حد تک نرگسیت پسندانہ تصور لسانی استعماریت کی بنیاد میں پتھر کا کام دیتا ہے اور نوآبادیاتی باشندے استعماری زبان کے اس تصور سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ بعض اوقات تو وہ استعماری زبان اور حقیقی علم اور بڑے ادب کو ایک سمجھنے کے منطقی مغالطے کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بات کو صدقِ دل سے اور پوری ذہنی دیانت داری سے ماننے لگتے ہیں کہ اگر حقیقی علم حاصل کرنا اور ترقی کرنا ہے تو صرف انگریزی پڑھنا ہو گی، اپنی زبانوں کو دریا برد کرنا ہوگا۔ ایک اور زاویے سے یہ مغالطہ انگریزی کی برتری کے ساتھ ہی اپنی زبان کی لازمی کہتری کے اس تصور کو پیدا کرتا ہے، جس کے وسیع ثقافتی مضمرات ہوتے ہیں۔ سر سید کی اس رائے میں یہی مغالطہ پوری شدت سے موجود ہے:
اگر ہم اپنی ترقی چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک کو بھول جائیں، تمام مشرقی علوم کو نسیاً منسیاًکر دیں، ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہو جائے، یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دست مال ہوں، ہمارے دماغ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے) لبریز ہوں، ہم اپنی قدر، اپنی عزت کی قدر خود آپ کرنی سیکھیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیر خواہ رہیں اور اس کو اپنی محسن و مربی سمجھیں۔‘‘۲۲؂
لسانی استعماریت جب زبان کی ثقافتی قوت کو ابھارتی اور ریاستی و تعلیمی اداروں کے ذریعے اس کے عام بہاؤ کا اہتمام کرتی ہے تو گویا خود شکنی کا انتظام بھی کرتی ہے۔ اس کے پیشِ نظر یہ حقیقت نہیں ہوتی یا وہ اس حقیقت پر قابو پانے سے قاصر ہوتی ہے کہ زبان کی ثقافتی طاقت پر ناقابلِ شکست اجارہ محال ہے۔ علوم و ادبیات کے جس ذخیرے میں زبان کی ثقافتی طاقت مضمر ہوتی ہے، وہ ایک ایسے متن کی طرح ہوتا ہے جس کے اطراف کھلے (open-ended) ہوتے ہیں۔ یہ متن اپنے بنانے والے یا اس پر اجارے کا دعویٰ اور کوشش کرنے والوں کے منشأ کے برعکس، اپنے پڑھنے والوں سے معاملہ کرنے میں آزاد ہوتا ہے اور متعدد ایسے نتائج پیدا کرتا ہے، جن کی لسانی استعماریت میں پیش بندی نہیں کی جا سکتی۔
کوئی زبان بجائے خود استعماری ہوتی ہے نہ اس میں موجود علوم و ادبیات کے رگ و ریشے میں استعماری منشأ سرایت کیے ہوتا ہے۔ استعماریت زبان کی جوہری خصوصیت نہیں، اس کا مخصوص سیاسی استعمال ہے۔ یہی صورت علوم و ادبیات کی ہے جن کی سیاسی استعماری تعبیرات کی جا سکتی اور ان تعبیرات کو سیاسی اور انتظامی قوّت اور تعلیمی نصاب اور عمومی بحث مباحثے کے ذریعے ’نافذ‘ کرنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ زبان اور اس کے علوم و ادبیات، ابجدی حروف نہیں کہ جنھیں قطعی مفہوم کی اٹل علامتوں کے طور پر ذہنوں میں راسخ کیا جا سکے۔ زبان کی چند ابجدی علامتوں سے جس طرح لاکھوں الفاظ بنائے جا سکتے اور ان الفاظ سے ماضی و حال کے بے انتہا واقعات اور تجربات اور مستقبل کے بے شمار امکانی وقوعات کا ابلاغ کیا جا سکتا ہے، اسی طرح علوم و ادبیات میں ظاہر ہونے والے خیالات و نظریات بھی کسی ایک سیاق اور واحد تناظر میں مقید نہیں رہ سکتے۔ زبان کا استعماری استعمال اسے اور اس کے علوم و ادبیات کو واحد سیاق کا پابند بنانے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ یہ کوشش دوسری زبانوں سے سماجی فاصلہ قائم کرنے اور انھیں انتظامی، تعلیمی اور تجارتی معاملات میں پس ماندہ رکھنے میں کام یاب ہوتی ہے، مگر استعماری زبان بہر حال ایک نئی زبان ہوتی ہے اور ہر نئی زبان علم کو بڑھاتی، فہم کی قلم رَو کو وسیع کرتی، علیحدگی کی سرحدوں کو سکیڑتی ہے۔ نئی زبان سے ہمارے ویژن اور بصیرت کے آگے نئی دنیا طلوع ہوتی ہے، غیر متوقع شکوہ کی دنیا جس کے امتیازات بعض اوقات ہمارے امتیازات کی طرح اور بعض اوقات ہمارے لیے بالکل نئے ہوتے ہیں۔۲۳؂ انگریزی کے بطور نئی زبان کے ان حاصلات پر برطانوی آبادکاروں کی نظر نہیں تھی۔ ان کی نظر تو اس بات پر تھی کہ وہ لسانی تنوع کے حامل ملک ہندوستان میں واحد زبان نافذ کرکے ایک ایسی لسانی وحدت حاصل کر لیں گے، جس کے ذریعے وہ ہندوستان کی تمام لسانی وحدتوں سے ابلاغی رابطے کو ممکن بنالیں گے اور سیاسی مفادات حاصل کرتے رہیں گے۔ یہ اسی قسم کی کوشش تھی جو پورے ہندوستان کو عیسائی ملک میں تبدیل کرنے کے لیے کبھی براہِ راست اور کبھی بالواسطہ کی گئی تھی۔ اسی طرح برطانوی استعمار کے پیش نظر یہ مقصد بھی تھا کہ انگریزی کو ’برطانیہ عظمیٰ‘ کی علامت بنا کر وہ ہندوستانیوں کے دلوں میں عظمت و برتری کا وہ نقش بٹھانے میں کام یاب ہوں گے جو مغل مسلمانوں کی تہذیبی عظمت کو مٹا ڈالے گا۔ ۱۸۳۵ء میں جب عدالتوں میں فارسی کو انگریزی سے بے دخل کیا گیا اور انگریزی کو ذریعہء تسلیم بنایا گیا تو اسی مقصد کے حصول کی طرف ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔ ہر چند مسلم اشرافیہ اور کچھ مذہبی حلقوں نے اس کے خلاف ردّ عمل ظاہر کیا اور اس ردِّ عمل میں زیادہ تر ان اندیشوں کو بنیاد بنایا گیا جو انگریزی کے ذریعے عیسائی مذہب کی تبلیغ و نفوذ کے سلسلے میں عام ہو رہے تھے، وگرنہ انگریزی کو نئی زبان کے طور پر بھی پڑھا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میکالے کے ’’کالے انگریزوں‘‘ کو چھوڑ کر، آگے چل کر جن لوگوں نے برصغیر میں جدیدیت اور آزادیِ فکر کی تحریکیں چلائیں اور ان تحریکوں نے خود برطانوی حکومت اور مغربی تہذیب پر تنقید کو شعار بنایا، وہ انگریزی کے حامی یا انگریزی نظامِ تعلیم کے فیض یافتہ تھے۔ ان میں سر سید، راجہ رام موہن رائے اور دہلی کالج کے مؤرخ ذکاء اﷲ، شاعر الطاف حسین حالی اور ناول نگار نذیر احمد۲۴؂ اور جناح، گاندھی، نہرو، محمد علی جوہر شامل۲۵؂ ہیں ۔تاہم یہ بات پیش نظر رہے کہ نوآبادیاتی عہد کے ابتدائی مرحلے میں، جب انحراف و بغاوت کے جذبات کم ہوتے یا غیر واضح ہوتے ہیں تو انگریزی کے حامی انگریزی کی استعماریت کا کم یا زیادہ اور شعوری یا غیر شعوری طور پر حصّہ ہوتے ہیں مگر نوآبادیاتی عہد کے اگلے مراحل میں، جب بغاوت کے جذبات مکمل آزادی کے تصوّر میں ڈھلنے لگتے ہیں تو انگریزی کی استعماریت بھی معرضِ خطر میں پڑنے لگتی ہے۔ لہٰذا ہم سرسیّد سے اس طرزِ عمل کی توقع نہیں کر سکتے جس کے حامل محمد علی جوہر ہوتے ہیں۔
لسانی استعماریت کے طے شدہ مقاصد اس صورت میں حاصل ہو سکتے تھے، اگر انگریزی پڑھنے والے اپنی زبانوں سے مطلق اور مکمل ذہنی، جذباتی اور ثقافتی علیحدگی حاصل کر لیتے اور اپنی ثقافتی و سیاسی صورتِ حال سے بیگانہ محض ہو جاتے۔ چوں کہ یہ دونوں صورتیں ناممکن ہیں، اس لیے ’انگریزی علم‘ کے ذریعے اپنی ثقافتی و سیاسی صورتِ حال کی تفہیم و تجزیے کا آغاز ہوا۔ یہ ایک پیچیدہ، تہ دار اور کثیر الجہات عمل تھا۔ کہیں ’انگریزی علم‘ کے انجذاب سے اپنی صورتِ حال کی وہ تفہیم کی گئی، جو اپنی صورتِ حال کو مسخ کرنے کے مترادف تھی؛ کہیں انگریزی علم کے جداگانہ سیاق کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی صورتِ حال کا تجزیہ کیا گیا اور کہیں ’انگریزی علم‘ کو یک سر غیر متعلق قرار دے کر اس کے خلاف بغاوت کی گئی۔
قصّہ مختصر لسانی استعماریت بالآخر ایک کثیر سمتی صورتِ حال کو جنم دیتی ہے۔ نوآبادیاتی ممالک سیاسی آزادی حاصل کرنے کے باوجود اس صورتِ حال اور اس کے مضمرات سے پوری طرح نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ صورتِ حال اس مفہوم میں کثیر سمتی ہوتی ہے کہ یہ کئی طرح کے لسانی اور ثقافتی روّیوں کی محرک ہوتی ہے۔ یہ روّیے اکثر باہم متضاد ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے ایک سے زیادہ ثقافتی شناختوں کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً لسانی استعماریت میں مقتدر طبقے کی زبان کو جو ساختی و ثقافتی برتری دی جاتی ہے، وہ مقامی لوگوں کی ایک جماعت کو ’’غیر مقامی و غیرارضی شناخت‘‘ قائم کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ یہ جماعت مقامی زبان کو محدود و پس ماندہ قرار دیتی اور اس سے اوپر اٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ کوشش ایک آفاقی شناخت پر اصرار سے عبارت ہوتی ہے۔ مقتدر طبقے کی زبان آفاقی تسلیم کر لی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ استعمار کااپنی زبان کو آفاقی قرار دینا اور محکوم افراد کا اسے آفاقی تسلیم کر لینا __ دو الگ الگ معاملے ہیں۔ استعمار عام طور پر اپنی زبان کو تاریخی و اقتداری مفہوم میں آفاقی ٹھہراتا ہے: اس کی زبان اس کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی نوآبادیوں میں رائج ہونے کی تاریخ رکھتی اور نوآبادیوں کی زبانوں پہ اقتداری برتری کی حامل ہوتی ہے مگر جب مقامی افراد انگریزی ، فرانسیسی یا ہسپانوی کو آفاقی زبان تسلیم کرتے ہیں تو یہ ایک خالص تنقیدی فیصلہ نہیں ہوتا؛ یہ اس لسانی حکمت عملی کا لازمی سماجی نتیجہ ہوتا ہے کہ جو ایک زبان کو دوسری زبانوں کی قیمت پہ اقتداری حیثیّت دینے سے عبارت ہوتی ہے۔ بہرکیف مذکورہ جماعت جس ثقافتی شناخت کا دعویٰ کرتی ہے، وہ اصلاً ایک عقلی نقطہء نظر ہے؛ وہ تجربے اور واردات سے تہی ہے؛ دلیل، منطق سے عبارت ہے۔ اس میں عصبیت نام کو نہیں ہوتی، ایک سردمہر قسم کی غیر جانب داری اور گرم جوشی اور حدت سے محروم رواداری ہوتی ہے۔ تاہم اس میں غیر معمولی لچک ہوتی ہے۔ اسے اپنی کسی ایک تعبیر پر اصرار نہیں ہوتا۔ یہ شناخت عقلی طور پر تسلیم کرتی ہے کہ زمین اس کی بنیاد ہے مگر کسی ایک خطہء زمین سے اس کی جذباتی وابستگی نہیں ہوتی۔
آفاقی ثقافتی شناخت کے حامل گروہ کے بالکل برعکس ارضی ثقافتی شناخت کی حامل ایک جماعت پیدا ہوتی ہے۔ سب سے اہم اور دل چسپ بات یہ ہے کہ لسانی استعماریت سے پہلے یہ جماعت فعال طور پر موجود نہیں ہوتی، بالقوہ ضرور موجود ہوتی ہے۔ دراصل لسانی استعماریت ہی لسانی شناختوں کا تصوّر عام کرتی اور انھیں ایک دوسرے کے مقابل لاتی ہے۔ ارضی ثقافتی شناخت پر اصرار کا مطلب اپنی زبان اور ثقافت کا احیأ ہے۔ اس میں ماضی کا رومانوی اور غیر تنقیدی تصوّر ہوتا ہے جو معاصر عہد کی حقیقتوں سے لا تعلق ہوتا ہے۔ یہی اس شناخت کی خصوصیت اور یہی اس کا دبدھا ہے۔
حوالے و حواشی
۱؂ برنار ڈایس کوہن (Bernard S. Cohn)کے الفاظ یہ ہیں۔
"133 the world was knowable through the senses which could record the experience of a natural world. This world was generally believed to be divinely created, knowable in an empirical fashion, and constitutive of the sciences through which would be revealed the laws of nature that governed the world and all that was in it."
(۱۹۹۶ء (۱۹۲۸ء) Colonialism and its Forms of knowledge؛ نیو جرسی، پرنسٹن یونیورسٹی پریس، ص: ۴)
2. "Another terrible inconvenience that I suffered want of interpreter. For the Brokers here will not speak but what shall please; yea they would alter the king's letter."
(ایضاً ؛ ص: ۱۷)
۳۔ جان گل کرسٹ (John B. Gilchrist)؛ ۱۷۹۰ء؛دیباچہ A Dictionary of English and Hindoostanee؛کلکتہ؛ ص: ۷
۴۔ اصل عبارت یہ ہے:
"When one sees the great number of divinities before which the human race has, for centuries, lived trembling and prostrate, arise from hieroglyphic writings, one become frightened by the power of symbols."
(بحوالہ ریمنڈ شواب؛ ۱۹۸۴ء؛ The Oriental Renaissance؛ نیو یارک،کولمبیا یونیورسٹی؛ ص: ۱۶۲)
۸۔ گریرسن (G. A. Grierson)کے اپنے الفاظ یہ ہیں:
"The languages had to be arranged in some order or other, and this necessitated grouping, and grouping necessitated the adoption of theories as to relationships."
(Linguistic Survey of India، جلد اوّل؛ لاہور، اکیوریٹ پرنٹرز؛ص :۲۱۔۲۲)
۹؂ برنارڈایسکوہن کا متعلقہ اقتباس یہ ہے۔
"133 that the production of these texts and others that followed them began the establishment of discursive formation, defined an epistemological space, created a discourse (Orientalism), and the effect of converting
Indian forms of knowledge into European objects."
]۱۹۹۶ء (۱۹۲۸ء)[؛ Colonialism and Its Forms of Knowledge؛ص :۲۱)
۱۰؂ Linguistic Survey of India؛ جلد اول؛ ص :۲
۱۱؂ گل کرسٹ (John. B. Gilchrist)کا متعلقہ اقتباس درج ذیل ہے:
"133 I cautiously examine, collate, and correct every paragraph, until we are mutually satisfied of having obtained a true translation; the fidelity of which is now subjected to a new ordeal. I reverse it literally into English, in the very order of the Hindoostanee version, and, if like the proof of division by multiplication, it stands this last test, I am satisfied and feel no repugnance to sign it as a faithful image of the original document."
(۱۸۰۰ء؛ The Anti-Jargonist؛ کلکتہ؛ ص: ۲۴۷)
12 "Europeans of the seventeenth Century lived in a world of signs and correspondences, whereas Indians lived in a world of substances."
(Colonialism and Its Forms of Knowledge؛ص: ۱۸)
13 "The imperial imagination was assisted by cultural memories of the ways in which the European vernaculars had derived there modernized form through direct translations of Greek and Latin."
(وینانریگل (Veena Naregal) ۲۰۰۱ء، Language Politics, Elites, and the Public Sphere؛ نئی دہلی، پرماننٹ بلیک؛ ص: ۴۳)
14 "Can there by any doubt that the white man must, and will, impose his superior civilization on the coloured races."
(بحوالہ رابرٹ فلپس؛ ۱۹۹۲ء؛۔ Linguistic Imperialism ؛ دہلی، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس؛ ص:۴۵)
15 http://www.boondocksnet.com/ai/(Jan.11-04)
۱۶؂ ایضاً
۱۷؂ رابرٹ فلپسن؛ Linguistic Imperialism,؛ ص: ۱۱۱
۱۸؂ رابرٹ فلپسن (Robert Phillipson) کا متعلقہ اقتباس دیکھیے:
"133 the dominance of English is asserted and maintained by the establishment and continuous reconstruction of structural and cultural inequalities between English and other languages 133. Structural refers broadly to material properties (for example, institutions, financial allocation) and cultural to immaterial or ideological properties (for example, attitudes, pedagogic principles).
( Linguistic Imperialism؛ ص :۴۷)
۱۹؂ ٹی۔بی میکالے، مقالہ میکالے (ترجمہ سید شبیر بخاری) مشمولہ، میکالے اور برصغیر کا نظامِ تعلیم؛لاہور، آئینۂ ادب؛ص :۳۱
۲۰؂ بحوالہ ڈاکٹر طارق رحمان؛ ۱۹۹۶ء؛پاکستان میں اردو انگریزی تنازع؛اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان؛ ص: ۲۳
۲۱؂ ٹی۔بی میکالے؛ مقالہ میکالے؛ ص: ۳۲
۲۲؂ سر سید احمد خاں ؛ ۱۹۶۳ء؛ مقالات سر سید (جلد ۱۵)؛ (مرتبہ شیخ اسماعیل پانی پتی؛ لاہور، مجلس ترقی ادب؛ ص: ۷۷
۲۳؂ یہ خیالات کے۔ کے عزیز کے ہیں۔ ان کے الفاظ دیکھیے:
"With a new language knowledge increases, the realms of understanding expand, the narrow confines of isolation recede, a new world arises before or vision, a world of unsuspected grandeur whose landmarks are sometimes like our own and sometimes like nothing that we have known."
]۲۰۰۷ء، (۱۹۷۶ء)[؛ The British Imperialism؛ لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز؛ص: ۲۳۳)
۲۴؂ عزیز احمد؛ ۲۰۰۶ء برصغیر میں اسلامی جدیدیت (طبع سوم)؛ترجمہ ڈاکٹر جمیل جالبی؛ لاہور، ادارہ ثقافتِ اسلامیہ؛ ص: ۲۵
۲۵؂ کے کے ۔ عزیز؛ The British Imperialism؛ ص: ۲۳

ناصر میر
اردو زبان
دلچسپ معلومات کے آئینے میں

* کتاب’’ہندوستان میں زبان کامسئلہ‘‘ پروفیسر مرغوب صدیقی کی تصنیف ہے۔
* کتاب’’سلہٹ میں اردو‘‘ کے مصنف عبد الجلیل بسمل ہیں۔
* ’’عورت اور اردو زبان‘‘ کی مصنفہ وحید ہ نسیم ہیں۔
* ’’اردو اور وادئ سندھ کی زبان‘‘ کے علاوہ ’’مسلم اردو‘‘ کے مصنف رشیداحمد لاشاری ہیں۔
* ’’پاکستان میں اردو‘‘ پروفیسر محمد طاہر فاروقی کے علاوہ مقتدرہ قومی زبان نے پانچ جلدوں میں شائع کی جس کے مرتبین پروفیسر فتح محمد
ملک، سید سردار احمد پیرزادہ اور تجمل ہیں۔
* ’’زبان کا مطالعہ‘‘؛ ’’زبان کا ارتقا‘‘؛ ’’آواز شناسی‘‘ اور ’’زبان کیا ہے؟ ‘‘ لسانی مباحث کی کتب ہیں جن کے خالق پروفیسر خلیل صدیقی ہیں۔
* "Arabic: The Mother of All Langauges"شیخ محمد احمد مظہر کی تصنیف ہے جو ۱۹۶۵ء میں شائع ہوئی۔
* ’’صوفیائے سندھ اور اردو‘‘ اور ’’بہار میں اردو شاعری کا ارتقاء‘‘پروفیسر محمد معین الدین دردائی کی گراں قدر تصانیف ہیں۔
* ’’مادری زبان کی تعلیم‘‘ کے خالق فروغ علی کاکوروی ہیں جن کا اصل نام ڈاکٹر محمد یونس ہے۔
* ’’سندھی اور اردو تعلیم‘‘ پروفیسر محمد صالح شاہ نے لکھی۔
* ’’یہ مسائل تلفظ‘‘بابائے اردو طلائی تمغہ حاصل کرنے والے مصنف اور محقق محمد ادریس صدیقی کے قلم کا شاہکار ہے۔
* ’’قاعدہ حریفہ میکالے‘‘ الف المحر اث نے لکھا۔
* ’’کشمیر میں اردو‘‘ حبیب کیفوی کی تحقیق و تصنیف ہے۔
* ’’اردو دشمن تحریک کے سو سال ‘‘ خواجہ ریاض الدین عطش کی تحقیق ہے۔
* ’’زبانیں اور رسم الخط‘‘ نامی کتاب سردار محمد خان نے لکھی۔
* ’’برطانیہ میں اردو‘‘ صہبا لکھنوی نے تحریر کی۔ ان کا اصل نام سید شرافت علی تھا۔
* ’’جہان اردو‘‘ کوکب شادانی نے مرتب کی۔ ان کا اصل نام سید محمد ایوب علی زیدی تھا۔
* ’’اپنی بولی اپنا املأ‘‘ حکیم حافظ شیر محمد ناصر کی تصنیف ہے۔
* ڈاکٹر خواجہ غلام السدین نے ’’زبان، زندگی اور تعلیم‘‘ تصنیف کی۔
* پروفیسر شبیر علی کاظمی کی چار کتابیں ’’اردو اور بنگلہ کے مشترک الفاظ‘‘؛ ’’پراچین اردو‘‘؛ ’’اساس اردو‘‘ اور ’’اردو کا عوامی ادب‘‘ ہیں۔
* مخمور اکبر آبادی نے ’’شمیم اردو‘‘ اور ’’قاموس الفصاحت‘‘ لکھیں۔ ان کا اصل نام سید محمود احمد رضوی تھا۔
* مختار زمن نے ’’بھارت کی لسانی پالیسی‘‘ لکھی جو ان کی اپنی ہی انگریزی کتاب "Language Policy of India"کا اردو
ترجمہ ہے جسے مقتدرہ قومی زبان نے شائع کیا۔
* علامہ ناطق لکھنؤی نے اردو زبان کی منظوم تاریخ ’’نظم اردو‘‘ کے نام سے لکھی۔ ان کا اصل نام حکیم سید سعید احمد تھا۔
* ڈاکٹر سید شوکت سبزواری نے ’’اردو زبان کا ارتقاء‘‘ تصنیف کی جو دراصل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا۔ ان کی دوسری کتاب ’’داستان
زبان اردو‘‘ بھی شائع ہوئی۔
* ’’ملتانی زبان اور اس کا اردو سے تعلق ‘‘ ڈاکٹر مہر عبدالحق کی تصنیف ہے۔
* ’’قواعد اردو‘‘ کے نام سے کتاب اردو زبان و ادب کے دو ماہرین نے لکھی۔ ان میں ایک بابائے اردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق جبکہ دوسرے عبدالرحمن رئیس ہیں۔